بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی صورتحال کو غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔
یہ بات انہوں نے اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق منعقدہ ان کیمرہ سیشن کے ابتدائی خطاب میں کہی ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ،اراکین بلوچستان اسمبلی بتائیں کہ کس حکمت عملی کے تحت حالات بہتر کئے جاسکتے ہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی بلوچستان کا نمائندہ اور جرگہ ہال ہے ، امن وامان کے قیام کیلئے حکومتی اقدامات آپ کوبتائیں گے ، تاہم اراکین اسمبلی امن وامان کے قیام کیلئے ٹھوس تجاویز دیں ۔
سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے ایک دو ماہ میں عسکریت پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن واقعات میں کمی کے باوجود صورتحال کو اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا ،ایوان بتائے کہ کس حکمت عملی کے تحت حالات بہتر کئے جاسکتے ہیں۔
اس سے قبل سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کو 170 D کے کل ایوان کی مجلس تشکیل دینے کی تحریک پیش کی جسے منظور کرلیا گیا جس کے بعد آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور محکمہ داخلہ کے حکام نے اراکین اسمبلی کو امن وامان پر بریفنگ دی۔
اختتامی خطاب میں سرفراز بگٹی نے اراکین اسمبلی کو امن کی بحالی کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا جبکہ اراکین اسمبلی نے قیام امن کیلئے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا جس کے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 21نومبر تک ملتوی تک ملتوی کردیا گیا ۔
میڈیا کو ان کیمرہ سیشن کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔