گوادرزیروپوائنٹ سے ایک شخص حراست بعد لاپتہ،تفصیلات کے مطابق محمد عظیم دبئی میں گزشتہ کئی سالو ں سے ایک کمپنی میں ملازم تھا،اب ریٹائر ہوکر واپس گھر آرہاتھا،ان کا اہلخانہ انہیں لینے کراچی گئے تھے اور وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ آبائی علاقہ ملانٹ کیچ آرہے تھے کہ گوادر زیروپوائنٹ کے مقام پر شناخت کرکے بس سے اتارکرپاکستانی فوج نے انہیں حراست میں لیااورنامعلوم مقام منتقل کی،مزاحمت پر اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا،فوج نہ صرف نہ انہیں حراست میں لیا بلکہ ان کے تمام سازومان جس میں نقدی، بیگ،بریف کیس وغیرہ شامل تھے،انہیں بھی اتارکر لے گئے۔
محمد عظیم ولد حاجی محمد صالح ملانٹ کیچ کا باشندہ اوربی این ایم کے سینئر کارکن جاسم بلوچ کے بھائی ہیں،جاسم بلوچ کو 14مارچ 2007کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا اورایک سال تک ٹاچرسیلوں میں شدید اذیت رسانی کے بعد رہا کیاتھا۔
جاسم بلوچ نے ریڈیو زرمبش سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محمد عظیم کو لاپتہ کرنے کا بنیادی وجہ میری سیاسی سرگرمیاں ہیں،میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ پورا ایک سال پاکستان کے ٹارچرسیل میں گزار چکاہوں،اب فورسز نے بھائی کو حراست میں لے کر ٹارچر سل منتقل کیا ہے،
جاسم بلوچ نے کہا اور کوئی وجہ نہیں کہ میرے بھائی کو لاپتہ کیاجائے کیونکہ انہوں نے اپنی عمر کا زیادہ حصہ دبئی میں ملازمت کرتے گزاری ہے اور وہ مکمل غیر سیاسی آدمی ہے۔انہیں لاپتہ کرنے کا مقصد میرے سیاسی سرگرمیوں کا پورے خاندان اجتماعی سزادیناہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں اجتماعی سزا ایک عروج پر ہے اس حکمت عملی کے تحت بلوچ جہدکاروں کے رشتہ داروں کو فوج نشانہ بناتاہے تاکہ جہدکار تائب ہوجائیں۔