بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے پسنی روڈ پر بانک چڑھائی کے نزدیک 2 نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں مقامی افراد کی اطلاع پر پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کردیا۔
پولیس کے مطابق ہسپتال میں کی جانے والی ابتدائی کارروائی کے بعد دونوں لاشوں کی شناخت ظریف ولد لعل بخش سنکہ بلور کولواہ اور فاروق ولد نعیم کے ناموں سے ہوئی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان کچھ ماہ قبل پاکستانی فوج نے لاپتہ کیے تھے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ظریف بلوچ کو اورماڑہ سے رمضان المبارک سے دو ہفتے قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جبکہ مزید بتایا گیا کہ اسے پاکستانی فورسز نے 30 اکتوبر کی رات یاسر بلوچ، اللہ بخش اور وحید احمد مولا بخش کے ہمراہ حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا تھا۔
واضع رہے کہ ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جہاں پہلے سے فورسزکے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان لاشیں پھینکی گئی ہیں۔