پاکستانی فوج پر چھ مختلف حملوں میں 9 اہلکار ہلاک کئے،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں پاکستانی فوج پر 6 مختلف حملوں میں 9 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے خاران، قلات، نوشکی، نصیر آباد اور ڈھاڈر میں چھ مختلف کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کو نشانہ بنا کر بھاری نقصانات سے دوچار کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج خاران کے علاقے لجّے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے گاڑیوں کے قافلے پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ حملے میں فوج کی تین گاڑیاں براہِ راست نشانہ بنیں، جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قلات کے شیخڑی اور مورگند کے علاقوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر حملہ کیا۔ یہ کارروائی طویل عرصہ تک جاری رہی، جس میں بھاری اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اس حملے میں کم از کم تین اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسی روز قلات ہی کے علاقے شاہ مردان میں بلوچ سرمچاروں نے ایک اور چوکی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوا جبکہ فوج کو مزید جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب نوشکی میں بس اڈہ کے قریب قائم قابض فوج کے مرکزی کیمپ کی حفاظتی چوکیوں پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے حملہ کیا۔ کارروائی میں ایک اہلکار ہلاک ہوا جبکہ سرمچاروں نے اسی مقام پر قابض فوج کی جانب سے نصب کردہ جاسوس کیمرا تباہ کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ آج نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے پولیس فورس کی گاڑی کو ایک دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور کارروائی میں، گزشتہ شب ڈھاڈر میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ایک پوسٹ پر دستی بم حملہ کیا، جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article