جمیل احمد کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کے سپرد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار جملی احمد کے بھائی شفیع محمد نے کوئٹہ میں جاری وائس فار بلوچ مسنگ پرسزن کے احتجاجی کیمپ جا کر اپنے بھائی جمیل احمد کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس جمع کرادیئے۔

انہوں سے کہا کہ ان کے بھائی جمیل احمد ولد غلام محمد کو رواں ماہ کی 18 اور 19 تاریخ کی درمیانی شب 3 بجے کالی وردیوں میں ملبوس سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے انکے گھر واقع کلی نبی آباد نزد گوبر میدانی، غفور ٹاون کوئٹہ گھر والوں کے سامنے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سیٹلائیٹ ٹاون تھانہ کے ایس ایچ او کو ایف آئی آر کے درخواست دی، لیکن انہوں نے ایف آئی آر درج نہیں کی، تو اس کے بعد انہوں نے سی سی پی او آفس میں اپنی بھائی کی جبری گمشدگی کی شکایت بھی درج کرائئ، لیکن ابھی تک نہ انکے بھائی کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جارہی ہے اور نہ ہی انہیں انکے بھائی کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے ان کا خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ نے شفیع محمد کو یقین دھانی کرائی، کہ تنظیمی سطح پر ان کے بھائی جمیل احمد کے کیس کو لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن اوربلوچستان حکومت کو فراہم کرینگے، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جمیل احمد کی جبری گمشدگی ایک ماورائے قانون اقدام اور شہریوں کی بنیادی حقوق کی سنگین حلاف ورزی ہے، جسکی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جمیل احمد پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر وہ بےقصور ہے تو انکی رہائی کو یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرکے خاندان کو پریشانی سے نجات دلائی جائے۔

Share This Article