بلوچستان کا نوے فیصد علاقہ نوگو ایریاز میں تبدیل ہوچکا ہے، مولانا واسع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جمعیت علمائے اسلام کے بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا بلوچستان کا نوے فیصد علاقہ نوگو ایریاز میں تبدیل ہوچکا ہے، امن و امان کی صورتحال تباہ حالی کی تصویر پیش کر رہی ہے، اور اس کے باوجود حکومت کی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ وہ انتظامی معاملات میں ناکام تجربات دہرانے میں مصروف ہے۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ دراصل ماضی کی ناکام پالیسیوں کا اعادہ ہے، جو بلوچستان کے حالات کو مزید ابتری کی جانب دھکیل دے گا۔

ان خیالات کا ظاہر انہوں نے گذشتہ روزجمعیت علمائے اسلام ضلع پشین کے زیراہتمام ضلع برشور میں استحکامِ جمعیت کانفرنس میں کیا۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومتی اراکین عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی کرسی کے حصول کے لیے رسہ کشی میں مصروف ہیں، جس کے باعث بلوچستان کے مسائل دن بہ دن سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشین کے عوام اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ ان کے نمائندے کی فہم و بصیرت کے بغیر ملکی سیاست کا کوئی باب مکمل نہیں ہوتا۔ یہ خطہ جمعیت کا ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے، جو ماضی میں بھی قائم تھا، آج بھی مضبوط ہے، اور مستقبل میں بھی استقامت کی علامت بن کر رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کمال الدین کی نشست پر دن دہاڑے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، جو نہ صرف اس حلقے بلکہ پورے بلوچستان کے ساتھ زیادتی تھی۔ اسی طرح مختلف حلقوں میں شب خون مار کر جمعیت کو اقتدار سے دور رکھا گیا، جس کا نقصان آج صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ این ایف سی ایوارڈ، ریکوڈک، سیندک اور دیگر صوبائی وسائل کے تحفظ کے لیے نمایاں اور مثر کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعت بلوچستان کے قدرتی وسائل پر کسی بھی غاصبانہ ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی، کیونکہ جے یو آئی اس مٹی، اس دھرتی اور اس کے عوام کی محافظ جماعت ہے۔

اس موقع پر مولانا کمال الدین (ضلع امیر جے یو آئی پشین)، مولانا محمد آغا، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، مولانا نذر محمد حقانی، حاجی نواز خان کاکڑ، حاجی زابد ریکی، ملک عبدالقیوم کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، ملک باز محمد کاکڑ، حاجی واحد آغا اور حاجی شکور آغا سمیت دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا۔

Share This Article