زامران، قلات اور مستونگ میں پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ پانے ایک پریس ریلیز میں زامران، قلات اور مستونگ میں پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے زامران، قلات اور مستونگ میں تین مختلف کاروائیوں میں قابض پاکستانی فوج و رسد کو نشانہ بنایا جبکہ شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ روز کیچ کے علاقے زامران میں کلکی کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت ایک ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے قافلوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے پہنچے تھے، دھماکے کے نتیجے میں قابض فوج کا ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ روز قلات کے علاقے منگچر میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، اس دوران قابض فوج نے پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بناکر پسپا کردیا، حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ قابض فوج نے اس دوران کواڈ کاپٹر سے بم گرائے تاہم سرمچار اس سے محفوظ رہیں۔

ترجمان نے کہا کہ آج بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مستونگ کے علاقے اسپلنجی، مَروْ میں گریڈ اسٹیشن کے قریب ناکہ بندی قائم کی، دوران اسنیپ چیکنگ سرمچاروں نے ایک گاڑی کو تحویل میں لیا جس میں قابض فوج کیلئے راشن سمیت منشیات لے جایا جارہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article