بلوچستان کے علاقے مستونگ سے پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو دوسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ بلیدہ سے جبری لاپتہ ایک نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
مستونگ سے فورسز نے عدنان رند ولد عبدالقدوس کو ایک بار پھر حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
واقعہ 19 اکتوبر 2025 کو پیش آیا۔
اس سے قبل بھی 6 ستمبر 2024 کو اُنہیں ان کے گھر کلی کڑک، ضلع مستونگ سے فورسز نے اُٹھا لیا گیاتھا، اور 15 ستمبر 2024 کو راجی موچی کراس (نواب ہوٹل )مستونگ کے قریب سے بازیاب ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہناہے کہ 19 اکتوبر 2025 کو عدنان بلوچ کو اُن کی اپنی موبائل والے دوکان سے ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکار اُٹھا کر لے گئے، اور صرف ایک گھنٹے بعد دوبارہ آکر دوکان کا تالا توڑ کر جتنے بھی موبائل فونز اور دیگر سامان تھے وہ سب اُٹھا لے گئے۔
عدنان کی فیملی کا کہنا ہے کہ یہ ظلم ناقابلِ برداشت ہے، اگر عدنان پر کوئی الزام ہے تو اُسے عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ قانون کے مطابق انصاف کا تقاضا یہی ہے۔
انہوں نے عدنان رند کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیاہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے بلیدہ کے علاقے الندور سے تعلق رکھنے والے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان ادہم ناصر بازیاب ہوگئے۔
یاد رہے کہ ادہم ناصر کوگذشتہ ماہ 26 نومبر کو لاپتہ کیا گیاتھا۔