بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہر میں مسلح افراد نے لیویز فورس کے ایک تھانے پرحملہ کرکے اسے نذر آتش کیا۔
کچھی میں ایک پولیس اہلکارنے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تھانے پر حملے کے بعد اس کے اہلکاروں کویرغمال بنا کرمسلح افرادان سے اسلحہ لے گئے۔
یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ مسلح افراد نے حاجی شہرمیں ناکہ بندی بھی کی۔
دوسری جانب بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف)نے لیویز فورس تھانے پر حملہ و اسے نذر آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
تنظیم کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 19 اکتوبر سہ پہر 2:30 بجے کچھی کے علاقہ حاجی شہر، ڈھاڈر میں پولیس تھانے کا گھیراؤ کیا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو حراست میں لے کر تھانے میں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور حربی سازوسامان ضبط کرنے کے بعد تھانے کو نذرِ آتش کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے ڈھاڈر شہر سے ملحقہ علاقوں کو ملانے والی شاہراہ بند کرکے حاجی آباد میں گشت جاری رکھا، جبکہ پولیس اہلکاروں کو انسانیت اور بلوچیت کے ناطے رہا کر دیا گیا۔
میجر گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کچھی کے علاقہ حاجی آباد، ڈھاڈر میں پولیس تھانے پر حملہ، سرکاری اسلحہ ضبط کرنے اور ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم ڈھاڈر، کچھی اور ملحقہ علاقوں میں بسنے والے بہادر بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ سرمچاروں کا دست و بازو بن کر اس قومی جنگ میں بھرپور حصہ لیں۔ یہ جنگ بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہے گی۔