بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز نے 4 نوجوانوں کوحراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے جبکہ ایک لاپتہ بازیاب ہوگیاہے۔
ضلع کیچ کے علاقے تربت گیبن کے رہائشی محمد موسیٰ نے تربت پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کا کم عمر بیٹا نور خان ولد محمد موسیٰ سکنہ بلوچ آباد گیبن اور اللہ بخت کلاتک کے رہائشی وہاب علی ولد ولی محمد سکنہ اللہ بخت 5 اکتوبر بروز اتوار کو گوادر کنٹانی میں روزگار کے لیے جاتے ہوئے راستے سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔
ان کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں مل رہا۔
دوسری جانب مشکے اور کیچ سے دو افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، نورجہاں ولد لکو نامی شخص کو 30 ستمبر 2025 کو فورسز نے حراست میں لیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی، جس پر انہیں شدید تشویش لاحق ہے۔
اہلِ خانہ نے تصدیق کی ہے کہ نورجہاں کو فورسز نے حراست میں لیا تھا اور اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ضلع کیچ کے علاقے دشت زرین بگ سے اطلاعات ہیں کہ خداداد بلوچ نامی نوجوان کو فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
اطلاعات کے مطابق، خداداد بلوچ کو تین دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تینوں افراد کو رہا کردیا گیا، تاہم خداداد بلوچ کا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، خداداد بلوچ کے دو بھائی پہلے ہی قتل کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے اطلاعات ہیں کہ ایک سال قبل فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والا مراد علی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
انہیں گذشتہ سال نو نومبر کو فورسز نے حراست میں لیا تھا اور آج وہ بازیاب ہوگئے ہیں۔