بلوچستان میں اسسٹنٹ کمشنرزاور ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا فیصلہ معطل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو میجسٹریٹ کے اختیارات دینے کے بلوچستان کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

بلوچستان ہائیکوٹ کی جانب سے یہ حکم ایک آئینی درخواست پر جاری کیا گیا ہے کہ جس میں کابینہ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان کابینہ نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی ایک سمری کو منظور کیا تھا جس میں برطانوی دورِ حکومت میں منظور کیے جانے والے سنہ 1898 کے ایکٹ کے تحت بلوچستان بھر میں ڈپٹی کمشنروں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے تھے۔

کابینہ کے فیصلے کے تحت انتظامی آفیسروں کو اشیا خردونوش، جنگلات، ملاوٹ، معدنیات اور تجاوزات سمیت بعض دیگر شعبوں میں جرائم کے حوالے سے سرسری سماعت کا اختیار دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ کی 24 تاریخ کو اس سلسلے میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو افتخار احمد لانگو ایڈووکیٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے بدھ کو درخواست کی سماعت کی جس میں درخواست گزار کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ایگزیکٹو افسران کو عدالتی اختیارات دینے کا اقدام آئین کے منافی ہے۔‘

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’صوبائی کابینہ کو مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے اختیارات دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘ جس کے بعد انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کابینہ کے فیصلے کو آئین کے خلاف قرار دیا جائے۔

جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ تاحکم ثانی کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا گیا۔

Share This Article