بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو میجسٹریٹ کے اختیارات دینے کے بلوچستان کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔
بلوچستان ہائیکوٹ کی جانب سے یہ حکم ایک آئینی درخواست پر جاری کیا گیا ہے کہ جس میں کابینہ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ بلوچستان کابینہ نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی ایک سمری کو منظور کیا تھا جس میں برطانوی دورِ حکومت میں منظور کیے جانے والے سنہ 1898 کے ایکٹ کے تحت بلوچستان بھر میں ڈپٹی کمشنروں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے تھے۔
کابینہ کے فیصلے کے تحت انتظامی آفیسروں کو اشیا خردونوش، جنگلات، ملاوٹ، معدنیات اور تجاوزات سمیت بعض دیگر شعبوں میں جرائم کے حوالے سے سرسری سماعت کا اختیار دیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ کی 24 تاریخ کو اس سلسلے میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو افتخار احمد لانگو ایڈووکیٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے بدھ کو درخواست کی سماعت کی جس میں درخواست گزار کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ایگزیکٹو افسران کو عدالتی اختیارات دینے کا اقدام آئین کے منافی ہے۔‘
ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’صوبائی کابینہ کو مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے اختیارات دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘ جس کے بعد انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کابینہ کے فیصلے کو آئین کے خلاف قرار دیا جائے۔
جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ تاحکم ثانی کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا گیا۔