ضلع خضدار: زہری میں حالات کشیدہ ،فورسز کی ٹینک، ڈرونز وکمانڈوز کے ذریعے پیش قدمی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں چوتھے روز بھی کشیدگی برقرار ہے۔

اطلاعات ہیں کہ زہری میں پاکستانی فوج کی پیدل اور قافلوں کی صورت میں پیش قدمی کر رہی ہے جہاں ، سینکڑوں کی تعداد میں فورسز کو ٹینک سمیت فضائی کمک حاصل ہے جن میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کو گزان کے قریب پیش قدمی کے دوران حملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ علاقے میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

جھڑپوں کے بعد فورسز کا ایک قافلہ گزان کے قریب رک گیا، جبکہ بدو گُشت کے قریب ایک داخلی پل دھماکے سے تباہ کردیا گیا جس کے بعد مرکزی شاہراہ پر آمدورفت متاثر ہوئی۔

پل تباہ ہونے کے باعث گزان کے قریب موجود قافلہ بھی پیچھے نہ جاسکا اور علاقے میں مزید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز میدانی علاقوں سے پیش قدمی کی کوشش کررہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گزان اور شاہموز سمیت دیگر پہاڑی مقامات پر کمانڈوز اتارے گئے ہیں۔

ادھر سوراب کے قریب فورسز نے ناکہ بندی کرتے ہوئے زہری جانے والے داخلی و خارجی راستے بند کردیے، جس سے متعدد مسافر پھنس گئے۔

آخر اطلاعات تک علاقے میں فورسز کی فضائی نگرانی جاری ہے جبکہ اس دوران راکٹ حملوں و فائرنگ کے اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔

حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔

اگست سے زہری بلوچ آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہیں جبکہ اس دوران پاکستانی فورسز کی جانب سے آپریشنز، فضائی نگرانی اور ڈرون حملے بھی رپورٹ ہوئے۔

دو روز قبل انجیرہ کے قریب ہونے والے حملوں میں فورسز کے 15 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے جس کی ذمہ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

مزید برآں علاقے میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ فضائی نگرانی بدستور جاری ہے۔

Share This Article