امریکہ کی ریاست مشی گن میں اتوار کے روز چرچ پر ایک مسلح شخص کی جانب سے گاڑی چڑھانے اور فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
حملہ آور نے چرچ کے عمارت کو آگ بھی لگا دی تھی۔
حکام نے بتایا کہ ڈیٹرائٹ سے 60 میل (100 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع قصبے گرینڈ بلینک میں چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔
حملہ آور کی شناخت مشی گن کے شہر برٹن کے 40 سالہ رہائشی جیکب سینفورڈ کے نام سے ہوئی ہے۔ حملے کے بعد پولیس نے انھیں چرچ کی پارکنگ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسے ایک ’ٹارگٹد پر تشدد کارروائی‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم حملے کی وجہ اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔
گرینڈ بلینک کے پولیس چیف ولیم رینے نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دو افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔
پولیس چیف کا کہنا تھا کہ آگ لگنے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔
اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ چرچ پر حملہ آور نے جان بوجھ کر چرچ کی عمارت کو آگ لگائی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں مدد کے لیے ایف بی آئی کے 100 اہلکاروں کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔