بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے)کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ضلع خضدار کے تحصیل زہری میں پیشقدمی کرنے والے پاکستانی فوج کے 15 اہلکار وں کی ہلاکت انہیں پسپا کر کے پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے زہری کے علاقوں انجیرہ اور گزان میں پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کو شدید حملوں میں نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز قابض فوج کے دس گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو انجیرہ میں سرمچاروں نے گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس میں چار گاڑیاں براہ راست حملے کی زد میں آئی جبکہ دشمن فوج کی دو گاڑیاں تباہ ہوکر خاکستر ہوگئی۔ ان حملوں میں قابض فوج کے پندرہ سے زائد اہلکار ہلاک ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ زہری 11 اگست سے سرمچاروں کے کنٹرول میں ہے اور اب تک 47 دنوں کے دوران قابض فوج کی بار بار کی گئی پیشقدمیوں کو ناکام بناکر انہیں پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ آج دوسرے روز بھی گزان، انجیرہ اور گردنواح میں جھڑپیں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلی بیان بعد میں جاری کی جائیگی۔