بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وکیل سمیت 3 افراد کو پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ 4 جبری لاپتہ افراد فورسز اذیت خانے سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔
واشک سے گذشتہ روز نوجوان ایڈووکیٹ حنیف بلوچ کو جبری طور لاپتہ کردیا گیا۔
اہلخانہ کے مطابق ایڈووکیٹ حنیف بلوچ کو فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھر ناگ، واشک سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئی، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔ اہلِ خانہ اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ایڈووکیٹ حنیف بلوچ کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ شب ضلع کیچ کے علاقے مند سے پاکستانی فورسز نے نصرت سید محمد سکنہ کوہ پشت اور عالم نصیر کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
جبکہ کیچ سے لاپتہ ہونے والے دو نوجوان بازیاب ہوگئے۔
زہیرالدین ولد محمد بخش، سکنہ سینگانی سر، جو 16 ستمبر 2025 سے لاپتہ تھے، آج 26 ستمبر کو بازیاب ہوگئے۔
اسی طرح اعجاز احمد ولد دوشمبے، سکنہ آپسر ڈاکی بازار، جو تقریباً دو ماہ سے لاپتہ تھے، بھی بازیاب ہوگئے۔
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے تین افراد بازیاب ہوگئے۔
آج جمعہ کو ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے دو افراد عبدلرحمان ولد سخی داد سکنہ ڈڈے دشت حال گوکدان، دو ہفتوں بعد اور احمد ولد غلام محمد ساکن مند 46 روز بعد بھی بازیاب ہوگئے ہیں۔
دونوں افراد کو فورسز نے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔
مقامی انتظامیہ نے دونوں افراد کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے ہیں۔