بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ بلوچ طلبا تحریک اور قومی جدوجہد کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔ زبیر بلوچ کو نشانہ بنا کر دراصل بلوچ طلبا سیاست کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں تحریکوں کو مٹانے کے بجائے مزید طاقتور بنا دیتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ زبیر بلوچ نے اپنی زندگی تعلیم، انصاف، قومی شعور اور طلبا کے حقوق کے لیے وقف کی۔ وہ ایک جری اور اصولی رہنما تھے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں نوجوانوں کو امید اور رہنمائی دی۔ ان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قوم کے باشعور بیٹوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے گھناؤنی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔
بی ایس او اس بہیمانہ قتل کی شدید ترین مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ زبیر بلوچ جیسے رہنما جسمانی طور پر مارے جا سکتے ہیں مگر ان کے نظریات اور قربانیاں کبھی ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا خون بلوچ طلبا کے لیے عزم اور مزاحمت کا نیا عہد ہے۔تنظیم شہید زبیر بلوچ کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں محدود رکھی جائیں گی اور مختلف تقریبات کے ذریعے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ شہید زبیر بلوچ کی قربانی اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچ طلبا اپنے قومی حق، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے تحفظ کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ بلوچ قوم کے اجتماعی عزم کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین بی ایس او پجار زبیر بلوچ پرامن جدوجہد اور عوامی خدمت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی قیادت میں تنظیم نے ہمیشہ تعلیم، انصاف اور معاشرتی بہبود کے لیے کام کیا۔ ان کی شخصیت ہر کارکن کے لیے مشعل راہ تھی اور ان کے اصولی موقف کی وجہ سے وہ عوام میں بہت مقبول تھے۔
انہوں نے کہا کہ دالبندین میں زبیر بلوچ کے گھر پر ایک المناک حملہ کیا گیا، جس میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری تنظیم اور بلوچستان بھر میں ان کے حامیوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ زبیر بلوچ کی قربانی ضمیر، امن اور انصاف کے لیے کی گئی ایک عظیم قربانی ہے۔ تنظیم کے ہر کارکن نے اس المناک واقعے پر سوگ کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم نے شہید زبیر بلوچ کی یاد میں پانچ دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں مختصر کی جائیں گی اور کارکنان مختلف تقریبات کے ذریعے ان کی یاد کو تازہ رکھیں گے۔
ہم زبیر بلوچ کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ان کے امن، انصاف اور خدمت کے اصولوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کے نقش قدم پر چلنا ہر کارکن کا فریضہ ہے اور یہ قربانی ہمیں متحد رہنے کی تحریک دیتی ہے۔