بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور پنجگور سے پاکستانی فورسز نے ایک ڈاکٹرکو انکے بیٹے اور3طالب علموں کو جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
پنجگور سے اطلاعات ہیں کہ گزشتہ شب تقریباً 2 بجے خدابادان کے علاقے میں مسلح افراد دو گاڑیوں میں سوار ہوکر ایک گھر میں داخل ہوئے اور ڈاکٹر وحید بلوچ اور ان کے بیٹے عرفان رئیس کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے گھر میں داخل ہوتے وقت اسلحے کے زور پر کارروائی کی۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر وحید بلوچ اس وقت سول ہسپتال میں خدمات سرانجام دے رہے تھے جبکہ ان کے بیٹے عرفان رئیس نے حال ہی میں لسبیلہ یونیورسٹی کے میرین سائنسز ڈیپارٹمنٹ سے گریجویشن مکمل کی ہے۔
واقعہ کے بعد ڈاکٹر اور ان کے بیٹے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے بروری علاقے میں مختلف چھاپوں کے دوران کیچ کے 3 طالب علم لاپتہ کردئے گئے۔
لاپتہ ہونے والوں میں نوروز ولد منظور، رہائشی سنگ آباد،در جان (کمسن طالب علم)، رہائشی سنگ آباد، شہبیک ولد ماسٹر طاہر رہائشی شاپک ڈانڈل شامل ہیں۔
15 سالہ دُرجان ولد بہار، جو دسویں جماعت کا طالب علم ہے ، ان کے اہلخانہ نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئٹہ بھیجا تھا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق چھاپے رات دیر گئے ہوئے، اور طلباء کو ان کے کمروں سے اٹھا لیا گیا۔ ابھی تک ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔