بلوچستان ہائی کورٹ کا اختر مینگل کا نام نو فلائی لسٹ سے نکالنے کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان ہائی کورٹ نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل پر عائد سفری پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کا نام نو فلائی لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دیے گئے دلائل کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ سردار اختر مینگل پر عائد سفری پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔

سماعت کے موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، ایڈووکیٹ راحب بلیدی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سردار اختر مینگل کو ان کے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرف کے مارشل لاء کے دوران بھی اس قسم کے اقدامات دیکھے ہیں، لیکن ہم عدالتوں کے اندر اور باہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ آج کا عدالتی فیصلہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ جھوٹے کیسز اور ایسے ہتھکنڈوں سے بی این پی اور اس کی قیادت کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ بی این پی بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Share This Article