افغانستان میں طالبان کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عزائم رکھنے والوں کو ’افغانستان کی تاریخ دیکھنی چاہیے۔‘
جمعے کو طالبان حکومت کے قطر میں سفیر سہیل شاہین کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بھی ’اگر وہ ہم سے اچھے تعلقات، افغانستان میں سرمایہ کاری، تجارت اور سفارتی تعلقات چاہتے ہیں تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اگر وہ لالچ پر مبنی مقاصد رکھتے ہیں تو انھیں برطانوی دور میں (افغانستان پر کیے جانے والے) حملے سے لے کر حالیہ امریکی حملے تک افغانستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔‘
’وہ اس سے بہت کچھ سیکھیں گے۔‘
اس سے قبل افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہا تھا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔
ذاکر جلالی نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے افغانستان کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی برقرار رکھے بغیر‘ افغانستان اور امریکہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اقتصادی اور سیاسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔