کسی جرم کے بغیر بلوچ نوجوان و طلبہ کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے، بی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے نوآبادیاتی طرزِ عمل کا شکار ہے۔ یہاں بلوچ نوجوان غیر انسانی تشدد، ظلم و جبر اور بربریت کا سامنا کر رہیں ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر قوم کے روشن مستقبل کے حامل طلبہ، سیاسی کارکنان اور بلوچ نوجوانوں کو غیر آئینی طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے، اور بعض کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں۔

اسی تسلسل کے تحت بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ کو بھی جبری گمشدگی کی غیر آئینی پالیسی کا نشانہ بنایا گیا۔ جاوید بلوچ، جو بلوچ طلبہ تنظیم سے وابستہ رہ کر قیادت کرتے رہے، کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ قانون کے طالب علم اور آواران مالار کے رہائشی تھے۔ انہیں 23 اپریل 2025 کو کراچی میں گلستانِ جوہر کے بلیز ٹاور میں واقع اپنی رہائش گاہ سے جبراً تشدد کا نشانہ بنا کر لاپتہ کیا گیا۔ اس واقعے سے نہ صرف اہل خانہ بلکہ طلبہ برادری بھی شدید کرب اور اذیت میں مبتلا رہے۔

مرکزی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ 4 ماہ 27 دن کی طویل اذیت اور صعوبتوں کے بعد چیئرمین جاوید بلوچ 18 ستمبر 2025 کی رات تقریباً 10 بجے کراچی سے بحفاظت بازیاب ہوگئے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں اب ایک معمول بن چکی ہیں۔ انہیں کسی جرم کے بغیر اذیت خانوں میں رکھا جاتا ہے۔ جس کی واضح مثال کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم زائد بلوچ ہے جن کو لاپتہ ہوئے 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر مسلسل اپیلوں کے باوجود وہ تاحال بازیاب نہ ہوسکے۔ اسی طرح زکریا اسماعیل، انیس بلوچ، شعیب بلوچ، سعید بلوچ، فیروز بلوچ سمیت کئی طلبہ زندانوں کی تاریکیوں میں قید ہیں۔ یہ ظلم و جبر دراصل تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے اس استعماری رویے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی کارکنان کو کسی جرم کے بغیر لاپتہ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے یا ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انہیں آئینی طریقۂ کار کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

Share This Article