زہری ڈرون حملے کے زخمی علی اکبر کو پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کردیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدارکے تحصیل زہری میں گزشتہ شب پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں2 خواتین سمیت 3 افراد ہلاک جبکہ چار سالہ بچہ سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ ڈرون حملہ زہری کے علاقے تراسانی کے قریب کیا گیا، جس میں 40 سالہ بی بی آمنہ زوجہ ثناء اللہ، 41 سالہ لال بی بی زوجہ علی اکبر، اور 30 سالہ محمد حسن ولد محمد یعقوب موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ڈرون حملے کے بعد لیویز حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے لگے، تاہم انجیرہ کراس کے قریب ایف سی اہلکاروں نے زخمیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے اس دوران زخمی ہونے والے ثناء اللہ اور چار سالہ بچے کو سوراب، دو دیگر زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کردیا جبکہ زخمی علی اکبر کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔

زہری ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں لاپتہ ہونے والے علی اکبر کی اہلیہ، زخمی ثناء اللہ کی اہلیہ اور ایک رشتہ دار شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوجی حکام نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔

Share This Article