اسرائیل نے جنوبی لبنان میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک بڑی فضائی کارروائی کی ہے۔
اسرائیل کا لبنان پر اس حملے کے بعد کہنا ہے کہ اُن کا ہدف ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے ان اہداف کو نشانہ بنانے سے قبل بعض مقامات کو خالی کرانے کا انتباہ بھی جاری کیا گیا تھا۔
تاہم اسرائیلی فضائی حملے کے بعد فوری طور پر کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا تاہم اُس کے باوجود آئی ڈی ایف کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر زور دیں کہ وہ ان حملوں کو روکے اور اپنے جنگ بندی کے وعدوں کو پورا کرے۔
آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں مائس الجبل میں بڑے پیمانے پر دھویں کے بادل دکھائی دیے جو اُن مقامات سے اُٹھ رہے تھے کہ جہاں اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔
جن اہداف کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے اُس سے متعلق کوئی ثبوت تو پیش نہیں کیے گئے تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ یہ حزب اللہ کے زیر استعمال تھے اور وہ ان کو علاقے میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اسرائیلی دفاعی فورسز کے عربی ترجمان آویچے ادراعی نے کہا کہ ان کی فورسز نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں پر حملہ کیا اور ان کی موجودگی ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمجھوتوں کی خلاف ورزی تھی۔‘
لبنان کے وزیراعظم نواز سلام نے ایک پوسٹ میں بین الاقوامی برادری، خاص طور پر جنگ بندی کے حامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ ’اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں تاکہ وہ فوری طور پر اپنی جارحیت بند کرے، فوراً لبنانی علاقے سے واپس نکلے اور قیدیوں کو رہا کرے۔‘