ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا بلوچستان کی تحریکِ آزادی کا دائرہ پنجاب تک پھیلانے کا عندیہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کی آزادی کے لئے متحرک وسرگرم مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی تحریک آزادی سے بالاتر نہیں۔ اگر پنجابی فوج پنجگور جیسے ایک شہر میں 20 بلوچوں کو قتل کر سکتی ہے تو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ سوال کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں کہ بلوچ آزادی پسندوں کے پنجاب میں داخل ہونے پر سوال کریں۔ فتنا الارض فوج کے اقدامات نے آزادی پسندوں کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ٹروتھ سوشل” میں کیا ہے ۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ ہم اپنی ثقافت، شناخت اور وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ اپنی کھوئی ہوئی آزادی کا دفاع کرنا ہمارا جائز حق ہے۔ اس کے باوجود عالمی برادری اور پنجابی دانشوروں نے جب بلوچ نسل کشی پر بات کی تو اپنے ہونٹوں پر مہر لگا لی۔

انہوں نے کہا کہ ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بین الاقوامی ادارے اپنے اتحادی پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں۔ اب تک ہم نے اپنی جدوجہد بلوچستان تک محدود کر رکھی ہے لیکن جنگ کا تھیٹر پنجاب کے دل میں منتقل ہونے پر کوئی آپشن نہیں بچے گا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑے بلوچ آزادی پسند رہنما نے واضح طور پر کہا ہے کہ تحریکِ آزادی پاکستان کے دیگر صوبوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔اس سے قبل بلوچ مزاحمت زیادہ تر بلوچستان تک محدود رہی۔ تقریباً ایک دہائی قبل کراچی میں محدود کارروائیاں ہوئیں جن کی ذمہ داری ابتدا میں واضح طور پر قبول نہیں کی گئی۔

بعد ازاں کراچی میں باقاعدہ کارروائیاں شروع ہوئیں۔ حالیہ برسوں میں کچھ حملے پنجاب تک بھی پہنچے، مگر قیادت کی سطح پر اس نوعیت کا اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا یہ بیان اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ بلوچ تحریک کے جغرافیائی دائرے میں ممکنہ توسیع کا عندیہ دیتا ہے، جو پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

Share This Article