افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے فضائیہ کے ایک مہلک حملے کے بعد سینکڑوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے مرکز پر کیا گیا۔
جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ ہسپتال کو پیر کے روز نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔
بی بی سی پشتو سروس نے اس ہسپتال کا دورہ کیا جہاں عمارت کے کچھ حصے اب بھی جل رہے تھے اور سٹریچر پر 30 سے زائد لاشیں لائی جا رہی تھیں۔
ہسپتال کے حکام کے مطابق وہاں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔
افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعوی کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 400 جبکہ 250 افراد زخمی ہیں۔
افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔
رہائشیوں نے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 50 منٹ پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی جس کے بعد طیاروں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
زیرِ علاج افراد کے اہل خانہ ہسپتال کے باہر جمع تھے اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’یہ وہ عام شہری اور منشیات کے عادی افراد تھے جن کی اکثریت پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہوئی۔‘
دوسری جانب راشد خان سمیت افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی مذمت کی۔
ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔‘
ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔ حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔‘
عطا اللہ تارڑ نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے چار مراکز کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر تباہ کیا۔‘
پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’تمام اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ صرف اُن تنصیبات تک محدود رکھا گیا جنھیں افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
پاکستان کے عسکری ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ویڈیو میں فضائی حملے کے بعد ایک دوسرے دھماکے کی وجہ سے اٹھنے والے شعلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اسلحہ ڈپو تھا۔‘