کوئٹہ : جبری لاپتہ صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی بازیابی کیلئے احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں صغیر احمد اور اقرار بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنےمنگل کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

لواحقین اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاجی مظاہرے میں لاپتہ افراد لواحقین ،بچے و دیگر نے شرکت کرکے نعرے بازی کی اور گمشدہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے سے نصر اللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صغیر احمد اور اقراربلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔اگر ان پر کوئی جرم ثابت ہوا تو ریاست جو سزا سنائی گئی ہمیں قبول ہے۔

جبکہ جبری لاپتہ صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی ہمشیرہ نسیدہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی بہن ہوں۔جیسا کہ آپ کو پتا ہے، 11 جون 2025 کو صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کو اورماڑہ چیک پوسٹ سے ایف سی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج چار مہینے ہو چکے ہیں، لیکن ہمیں کچھ نہیں بتایا جارہا کہ وہ کہاں ہیں؟ اور کس حالت میں ہیں؟ میرا بھائی پہلے طالبعلم تھا۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ماسٹرز کرچکا ہے۔ نوکری نہ ملنے کی وجہ سے اُس نے ذمیاد گاڑی میں پٹرول بیچنے کا کام شروع کیا تاکہ اپنے بوڑھے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اپنی بہن حمیدہ کے بچوں کا خرچ اٹھا سکے۔ہمارے گھر کا واحد سہارا میرا بھائی ہے۔اقرار بلوچ (میرا کزن) گردوں کا مریض ہے، اور اُسے علاج کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا کس حال میں ہے؟ ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے خاندان کے ساتھ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی صغیر بلوچ کو ریاستی اداروں —( سی ٹی ڈی) اور(ایم آئی) نے لاپتہ کیا تھا۔ میری بہن حمیدہ بلوچ نے تب آواز اٹھائی، ریاست سے اپیل کی، اور پورا خاندان اُس وقت بھی بہت ذلت اور تکلیف سے گزرا۔ نو مہینے بعد صغیر بازیاب ہوا۔

نسیدہ بلوچ نے مزید کہا کہ اب دوبارہ وہی ظلم ہو رہا ہے۔ ہم روز اذیت میں ہیں۔ریاست کو ماں کہا جاتا ہے، لیکن کیا ماں اپنے بچوں کو اس طرح لاپتہ کرتی ہے؟میرے والد نے صغیر کو تعلیم دلائی تھی کہ وہ بڑھاپے میں سہارا بنے لیکن اب ہم بے یار و مددگار ہیں۔

انہوں نے آکر میں ریاست سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو اُسے عدالت میں پیش کریں۔میں پاکستانی ہوں، آئین اور قانون کو مانتی ہوں۔ اگر وہ مجرم ہے تو عدالت سزا دے۔

Share This Article