بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری دھرنا منگل کے روز 63ویں دن میں داخل ہوگیا۔
مظاہرین میں خواتین، بزرگ، بچے اور نوجوان شامل ہیں جو اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے مطالبے کے ساتھ احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دھرنے میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ سخت موسم اور مشکلات کے باوجود ان کا حوصلہ کمزور نہیں ہوا۔
احتجاجی کیمپ سے جاری بیان میں مظاہرین نے کہا کہ یہ دھرنا صرف لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ ایک جبر کے نظام کے خلاف آواز ہے۔ ان کے مطابق "ریاست کی خاموشی اور میڈیا کی بےحسی صورتحال کو مزید اجاگر کر رہی ہے۔”
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں اور پیاروں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
انہوں نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔