نوٹ:بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ سے یہ انٹرویو ”اے پی این نیوز“کے ”اجے کؤل“ نے اپنے پروگرام ”ایجنڈا“کے لئے 25 جولائی 2020 کو لیا تھا۔
اے پی این نیوز:۔ہم نے بہت کچھ سنا ہے کہ بلوچستان میں مظالم ہوتے ہیں، ریاستی ادارے آپریشن کرتے ہیں، لوگ غائب کئے جاتے ہیں۔ ہمیں اصل صورت حال بتائیے گا۔
چیئرمین خلیل بلوچ:۔ ریاستی دہشت گردی گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے زور و شور سے چل رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو غائب کردیا گیا ہے۔ بلوچستان کو پاکستان اور پاکستانی کی ملٹری استبلشمنٹ نے ایک مقتل گاہ بنا دیا ہے۔ یہاں پر صورت حال کافی گھمبیر ہے۔ اگر کوئی آزاد صحافی یا آزاد فورم یہاں آکر تجزیہ کرے تو یہاں انسانیت کی بھیانک شکل نظرآئے گی جوکہ ہمیں معلوم تاریخ میں دنیا کے کسی بھی کونے میں یا کسی جگہ ایسی صورت نہ ملتا ہو۔ یہاں روزانہ بلوچ سیاسی کارکنوں، بلوچ دانشوروں کو اٹھایاجاتاہے۔ انہیں غائب کیاجاتاہے۔ ان کی مسخ لاشیں مختلف ویرانوں میں ہمیں ملتی ہیں۔ یہاں بچے اور عورتیں بھی ریاستی جبراوردہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم پر جو صورت حال گزررہی ہے وہ انتہائی بھیانک ہے اورانسانی توقعات یا انسانی سوچ کے بالکل برخلاف پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ یا حکمرانوں نے بلوچ سرزمین پرگزشتہ بہتر تہتر سالوں سے یہاں قبضہ کرلیاہے، اس کے بعد سے یہ تسلسل چلتاآرہاہے۔ گزشتہ دودہائیوں سے اس میں کافی زیادہ شدت آئی ہے۔ جمہوری پارٹیاں یہاں جوجمہوری طرز پر آواز اٹھاناچاہتے ہیں،اس پر نہ صرف قدغن لگایا ہے بلکہ ان کا قتل عام کیاجاتاہے۔ یہاں بلوچ کا نسل کشی چل رہاہے، بلوچ بہت خوفناک صورت حال سے دوچار ہیں۔
اے پی این نیوز: آپ کا تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ ہے،آپ کا کیاتحریک،کیامہم کیاہے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: بلوچ نیشنل موومنٹ خالصتاََ بلوچستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور گزشتہ دودہائیوں سے بلوچستان میں خالصتاََ نیشنلزم ہے یا نیشنلزم کا بیانیہ ہے، اسے بلوچ نیشنل موومنٹ آگے بڑھارہی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ پاکستان کے فریم ورک سے ہٹ کر پاکستان کے پارلیمنٹ یا اس کے اداروں کا حصہ نہ بنتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کررہی ہے۔ اس جددجہدمیں ہمارے قائد،لیڈر شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کو 2009میں پاکستان کی سیکوریٹی فورسز اور اس کے خفیہ اداروں نے ان کے دوستوں لالامنیر اور شیر محمد بلوچ سمیت چھ دن تک ٹارچر سیل میں رکھ کر پھر ہمیں ان کی مسخ لاشیں ہمیں مرگاپ کے مقام پر ملیں۔ بلوچستان میں خالص آزادی کی جنگ چل رہی ہے،آزادی کی ایک جدوجہد چل رہی ہے،جس میں بلوچ قوم کی اکثریت بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہے،بلوچ قوم کی اکثریت بلوچ نیشنل موومنٹ اور دیگر فریڈم فائٹرز کو سپورٹ کرتی ہے۔
اے پی این نیوز: آپ پاکستان سے کیوں آزادی چاہتے ہیں؟
چیئرمین خلیل بلوچ: دیکھیں،بلوچستان پاکستان سے پہلے ایک آزاد ریاست رہا ہے،پاکستان کے آرمی نے،پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آقاؤں کے آشیر واد سے،جنہوں نے بغیر قوم کے ایک ریاست بنایا،تو ان کے کہنے پر انہوں نے بلوچستان پر قبضہ کرلیاہے اور روز بہ روزاپنے قبضے کو مضبوط تر کرنے کے لئے یہاں پر بلوچوں کا قتل عام کررہی ہے۔ بلوچوں پر فوجی آپریشنوں کے مختلف دور گزررہے ہیں۔ بلوچوں کی اپنی ایک زبان ہے،اپنا ایک کلچر ہے،اپنی سرزمین ہے تو آزادرہنا ان کاحق ہے اور وہ آزادی سے رہناچاہتے ہیں۔وہ(بلوچ)پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے فریم ورک میں نہیں رہنا چاہتے ہیں،پاکستان بزوربلوچوں کو اپنے ساتھ تادیرنہیں رکھ سکتی ہے۔آزادی ہرانسان کابنیادی حق ہے اور بلوچ من حیث القوم اپنی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے اور اپنی آزادی چاہتی ہے۔
اے پی این نیوز:۔ خلیل صاحب جتنا مجھے سمجھ ہے 27اگست کو پاکستان نے فوجی طاقت سے آپ (بلوچستان) پر قبضہ کیا (27مارچ 1948خلیل بلوچ)تو اسی طرح پاکستان نے کشمیرپر قبضہ کرنا چاہا،ہندوستانی فوج نے اسے بچایا،آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟نہیں توکشمیربھی سارا پاکستان کے قبضے میں ہوتا۔
چیئرمین خلیل بلوچ: دیکھیں جب پاکستان نے اپنے قبائلی لشکر کو کشمیر پر یلغار کرنے کے لئے بھیجا تھا تو کشمیرکے راجہ نے انڈیا سے مددمانگی اور انڈیا نے ان کو سپورٹ کیا اور پاکستان کی جارحیت کو وہاں پر روک لیا۔ پاکستان اپنے جارحیت کو بڑھانا چاہتاتھا لیکن انہیں روک لیاگیا۔ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں انڈیا ایک بڑی اور ذمہ دار طاقت ہے،یہ اس کی سیاسی،اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے وہ اس خطے میں جہاں ایک بدمعاش ریاست قوموں پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے یا انہیں اپنے زیر قبضہ رکھنا چاہتی ہے تو ان کوروکنا سیاسی ذمہ داری بنتی ہے جو انہوں نے کشمیر میں کیا،ہم سمجھتے ہے کہ پاکستان جیسے ایک بدمعاش ریاست کو نہیں روکا گیا نہ صرف اس خطے بلکہ پورے دنیا کے لئے تباہی کا سبب بن سکتاہے۔
اے پی این نیوز: آپ چاہتے ہیں کہ بھارت آپ کی مددکے لئے آئے لیکن پاکستان توپہلے کہتاہے کہ بھارت آپ لوگوں کو مدد کرتاہے،آپ اس پہ کیا کہیں گے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: پاکستان کا بیانیہ کئی دہائیوں سے رہاہے۔ نہ صرف ہمیں بلکہ پاکستان میں جہاں کہیں بھی کوئی اپنے حقوق کی بات کرتاہے تو وہ اسے ”را“پر یا انڈیا پر تھونپ دیتی ہے کہ جی انڈیا انہیں سپورٹ کررہا ہے،لیکن بلوچ جس شدت کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے،بلوچ کی جو جغرافیہ ہے بلوچ کا جو نیچر natureہے، آج بلوچ اپنے کم طاقت اورصرف اپنے بل بوتے پر پاکستان کو لوہے کے چنے چبوائے ہیں اگر بلوچ کو کوئی بڑی ریاست کی طرف سے سپورٹ ہوگی تو شائد صورت حال اس سے مختلف ہو۔
اے پی این: آپ کہتے ہیں کہ آپ بلوچ لوگ اپنے بل بوتے پر پاکستان کے خلاف لڑرہے ہو اور پاکستان جھوٹ پھیلا رہاہے کہ بھارت آپ لوگوں کی مدد کررہاہے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: جی بالکل، بلوچ کی جدوجہد نیشنلزم کے بنیادپر ہے،اس جدوجہد کو بلوچ نوجوان نیشنلزم کے جذبے سے اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ،اپنی آواز کے ذریعے آگے بڑھارہے ہیں،قربانیاں دے رہی ہے،زمین بلوچوں کی ہے یہ بلوچوں کی قومی فریضہ ہے۔
اے پی این نیوز: آپ بھارت سے کس کی طرح چاہتے ہیں؟
چیئرمین خلیل بلوچ: دیکھیں،ہم نہ صرف بھارت بلکہ پورے مہذب دنیاسے،جتنے ذمہ دارملک ہیں،ذمہ دار سول سوسائٹیز ہیں،ہم ان کی مدد مانگتے ہیں،بلوچوں کی سیاسی و اخلاقی مددکریں،جو بھی ان کی ذمہ داریاں بنتی ہیں وہ خالص اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں تو شائد اس خطے کی اور بلوچوں کی صورت حال مختلف ہو۔
اے پی این نیوز: ابھی میں نے کہیں پڑھا کہ افغانستان بھی بہت پریشان ہے پاکستان کے دہشت گردی سے،افغانستان میں بھی ایک نقطہ نظرہے کہ وہ بلوچوں کی مددکرے،آپ اس کوکیسے دیکھتے ہیں؟
چیئرمین خلیل بلوچ: افغانستان خود پاکستان کے پالیسیوں سے،پاکستان کے کرایہ کے قاتلوں سے بہت متاثر ہے۔ پاکستان اپنی مذہبی انتہاپسندی کی پالیسی سے افغانستان کو گزشتہ چالیس،پینتالیس سالوں سے ایک مقتل گاہ بنادیاہے،لاکھوں کی تعداد میں افغان اپنی سرزمین کے لئے مارے گئے ہیں،افغانستان کئی دہائیوں سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ لڑرہی ہے، اس سے زیادہ دنیاکے دیگر ذمہ دارممالک اور طاقتوں کی ذمہ داری بنتی ہے وہ آگے بڑھیں،افغانستان کو انٹرنیشنل کمیونٹی،انٹرنیشنل پاورز کی مدد کی ضرورت ہے، افغانستان پر گھیرا تنگ کردیاہے،آئے روزمیڈیا میں دیکھنے میں آتی ہے کہ وہاں پر ایک قتل عام شروع کردیا،سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مارے جاتے ہیں،اب تک لاکھوں افغان اپنے سرزمین کے لئے شہید ہوچکے ہیں وہ شائد چاہتے ہوئے بھی نہیں کرپاسکتاہے جواس کو کرناچاہئے تو یہ ذمہ داراورطاقت ور ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی اس وحشت کو روکیں۔
اے پی این نیوز: پاکستان کے جو انسانی حقوق کے ادارے ہیں،عدلیہ ہے،آپ لوگوں کی مددنہیں کرتی ہے؟ انٹرنیشنل ادارے ہیں،انسانی حقوق کے ادارے ہیں اقوام متحدہ وغیرہ ہے،ان کا کردار آپ کیسے دیکھتے ہیں،وہ آپ لوگوں کی کتنا مددکرتے ہیں یا نہیں؟
چیئرمین خلیل بلوچ: پاکستان تو ایک عسکری ریاست ہے،یہاں جو جمہوریت ہے،یہاں جو عدلیہ ہے،ہاں ان کے کچھ انسانی حقوق کے اکٹوسٹ ہیں یا فورمز ہیں ان کا حشر پوری دنیاکے سامنے ہے کہ کوئی ریاست کے بربریت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو اس کا کیاحشر کیاجاتاہے،تو افسوس یہ ہے کہ جو عالمی فورم ہے،اقوام متحدہ ہے جوبنے ہیں اس مقصد کے لئے کہ قوموں کے حقوق یا قوموں پر ہونے والے ظلم یا بربریت روکناان کی ذمہ داری ہے لیکن ان کی خاموشی یا ان کی طرف سے جو لاپرواہی ہے،وہ کافی افسوسناک ہے۔
اے پی این نیوز: بلوچ صاحب،جیسے آپ لوگ ایک مہم لڑرہے ہیں،اسی طرح سندھ والے بھی لڑرہے ہیں،پشتون بھی لڑرہے ہیں پاکستان کے خلاف، توآپ کونہیں لگتاکہ آپ لوگوں کو ایک اتحاد بناناچاہئے؟ایک ساتھ کام کرنا چاہئے،ایک ساتھ لڑنا چاہئے۔
چیئرمین خلیل بلوچ: میں نے گزشتہ دن ایک میڈیا اسٹیٹمنٹ جاری کیاتھا کہ جو سندھودیش کے لئے لڑرہے ہیں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں یا وہاں لوگ لاپتہ ہیں یا ”کے پی کے“ میں گزشتہ دنوں پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک رہنماپر قاتلانہ حملہ ہوا یا اس سے پہلے جو مارے گئے یا وہاں انہیں لاپتہ کیاجارہاہے،توان مظلوم قوموں کوضرورت ہے وہ اپنے بنیادی اہداف یا مشترکہ مسائل ہیں،میں سمجھتاہوں کہ پاکستان ہمارا مشترکہ دشمن ہے،اس کے خلاف ہمیں الائنس کی ضرورت ہے،آوازاٹھانے کی ضرورت ہے اورہم اپنے رابطے جاری رکھیں گے،قوی امیدہے کہ اس ضمن میں پیش رفت ہوگی۔
اے پی این نیوز: آپ اس پہ پہل کررہے ہیں کیونکہ جس طرح بلوچستان میں لوگ غائب ہوتے ہیں،سندھ میں لوگ غائب ہوتے ہیں اسی طرح خیبرپختونستان میں ہورہے ہیں جیساکہ ادریس خٹک ابھی غائب ہوئے ہیں تو آپ پہل کریں ایک جوائنٹ فورم بنانے کے لئے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: ہم پہل کردیاہے،ہم نے پہلے بھی رابطوں کی کوشش کی ہے،اب گزشتہ دن بھی میرا یک اسٹیٹمنٹ میڈیا میں آیا تھا تو ہم رابطے اور پہل کررہے ہیں،ہم کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسی دشمن ہے جس سے یہ امید رکھنا کہ آئندہ چند برسوں میں حالات ٹھیک ہوں گے،یہ پالیسیز نہیں رہیں گے،یہ تحریک انصاف کی پالیسیاں نہیں ہیں،یہ مسلم لیگ کی پالیسیاں نہیں ہیں یا یہ پیپلز پارٹی کی پالیسیاں نہیں ہیں یاجو حکمران جماعتیں رہی ہیں یہ ریاست کی پالیسی ہے۔ اسے اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے،فوج حکمرانی کرتی ہے۔ یہ اس کا بنیادی پالیسی ہے جہاں مظلوم قوموں کی سرزمین ہے،ان کی وسائل پر قبضہ کرنا،یہ مشترکہ مسئلہ ہے، بلوچ تو اس کے خلاف کافی شدت کے ساتھ لڑرہے ہیں،سندھودیش کے آزادی کے لئے ایک لہر نظرآرہی ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی ایم کے لیڈرزتوپاکستان کے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کے فورمز پر،پاکستان کے اداروں پر یقین رکھتے ہیں لیکن جب وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں لاپتہ کیاجاتاہے۔ ان کی لاشیں ملتی ہیں تو لہٰذا یہ سمجھنے کا وقت ہے۔ان حالات میں انہیں ادراک کرنا چاہئے،انہیں احساس کرنا چاہئے کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہئے،ہمیں مظلوم قوموں کے ساتھ ایک الائنس بنانے کی ضرورت ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ اس بارے میں پہل کرچکی ہے اوراقدامات بھی کرے گی اور ہمیں امید ہے کہ سندھودیش کے لئے لڑنے والوں کو یا سندھو دیش میں رہنے والوں کویا پشتونستان میں رہنے والوں کواس چیز کااحساس ہوگاکہ پاکستان ان کے لئے نہیں ہے۔
اے پی این نیوز: کراچی اسٹاک ایکس چینج پر جو حملہ ہوا،بلوچ لبریشن فرنٹ نے کرایا(بی ایل اے نے ذمہ داری لی،مرتب کنندہ)تو آپ اس حملے کو کیسے دیکھتے ہیں؟کتناجائزہے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: دیکھیں،جہاں پر قوموں کی نسل کشی کی حدتک جاتے ہیں تو اس قوم میں ایسے ابھاریاخیالات روز بہ روز شدت کرتے ہیں۔ وہ خطرناک شکل اختیارکرتی ہیں تو پاکستان کے بلوچستان جو پالیسیاں ہیں یا وہاں بلاتفریق قتل عام کررہے ہیں تو اس کے خلاف ایسا ردعمل متوقع ہے، اپنی آواز کو مختلف طریقے یا مختلف ذرائعوں سے دنیا تک پہنچانایا انہیں متوجہ کرنا یا ہماری نسل کشی میں چین براہ راست شریک ہے، ایک سامراجی ریاست ہے اس کی جوتوسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں،وہ بلوچ زمین پر،بلوچ ساحل پر،بلوچ وسائل روزبہ روز اپنی گرفت پر مضبوط کرناچاہتاہے تو ایسے (حالات)میں ایسے ردعمل متوقع ہیں،انہیں ہم نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں۔
اے پی این نیوز: کیاایسے ردعمل یاایسے واردات بڑھیں گے اگر پاکستان ایسا کرتارہا؟
چیئرمین خلیل بلوچ: جہاں پر آپ کی آواز کو بزورطاقت یا گولی کے ذریعے دبائی جاتی ہے،بلوچ نیشنل موومنٹ کے سینکڑوں ایسے رہنماہیں جو جمہوری طریقے سے اپنی جدوجہد کررہے تھے،انہیں شہید کردیا گیا ہے۔جہاں پر آپ کو بولنے کا حق نہیں ہے،جہاں بولنے پرآپ کو غائب کردیا جاتاہے۔ ہمارے ڈاکٹرز کو غائب کردیا جاتاہے،ہمارے دانشوروں کو غائب کردیاہے تو ایسی قوموں کے نوجوانوں میں ایسا ردعمل یا ایسے خیالات ابھریں گے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں،آپ مطالعہ کرسکتے ہیں کہ بلوچ جدوجہد میں خاص کر مسلح تنظیموں میں تعلیم یافتہ اوریونیورسٹیوں سے ماسٹرز یا ایم فل کے اسٹوڈنٹس محاذوں پر لڑرہے ہیں،وہ شہید ہورہے ہیں تو اس نہج پر انہیں پاکستان کے ریاست نے پہنچایا دیاہے یا دنیا کی خاموشی نے پہنچادیاہے کہ جس جمہوری طریقے سے وہ آواز آگے چاہتے تھے اور پاکستان نے اس آواز کو جس اندازسے دبایا ہے،پاکستان کو ذمہ دار طاقتوں اور عالمی نے نہیں روکا تو میرے خیال میں یہ دنیا کی تاریخ میں پہلے بھی ہوا ہے۔آپ بخوبی آگاہ ہیں بھگت سنگھ کی تاریخ سے یا دیگر فریڈم فائٹرزسے۔۔
اے پی این نیوز: ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہورہاہے میں ایک آخری سوال پوچھوں گا آپ کے سابق صدرکو پاکستانی ایجنسیز نے مارڈالا تھا توآپ کو خطرہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہوسکتاہے؟
چیئرمین خلیل بلوچ: کافی کوششیں ہوئی ہیں اس طرح کی،اور میرے ٹیم میں سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ کو شہید کرددیاگیاہے،ہمارے فنانس سیکریٹری رزاق گل کو شہید کردیاگیاہے،ایسے سینکڑوں دوست ہیں جنہیں شہید کیاگیاہے اورجہاں بھی پاکستان یا اس نے جوڈیتھ سکواڈزبنائے ہیں ان کو جہاں بھی موقع ملتاہے وہ اس سے اجتناب نہیں برتیں گے۔
اجے کؤل:ہم امید کرتے ہیں کہ آپ محفوظ رہیں،سلامت رہیں،آپ کا شکریہ اس پروگرام میں شامل ہونے کے لئے،ہم پھر آپ سے کبھی بات کریں،شکریہ