ہم نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے،اختر مینگل اے ٹی سی کورٹ میں پیش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گزشتہ 3 دنوں میں بی این پی کے قائد سردار اختر مینگل اپنے خلاف دہشت گردی کیس میں ایک بار پھر عدالت میں پیش ہوے ۔

ان کے ہمراہ ان کے وکیل اور پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے ۔

عدالت میں اختر مینگل نے کہا کہ میرے خلاف 2 خودکش بمبار استعمال ہوئے، اگر تیسرا خودکش حملہ آور میرے پیچھے عدالت میں آیا تو یہ میرے لیے نہیں دوسروں کے لیے مسئلہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں سردار اختر مینگل کے خلاف کیس کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے چھوٹی چڑیا کے میزبان کو ڈسچارج کر دیا۔

جبکہ عدالت میں ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس ایک شخص کو بری کردے اور دوسرے کے خلاف مقدمہ چلائے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل کوئٹہ میں موجود تھے لیکن کئی ماہ تک ایف آئی آر ہم سے چھپائی گئی۔ کیس میں کچھ نہیں ہے، یہ صرف پارٹی قائد پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر شاہوانی، اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ، ثنا بلوچ حاجی باسط بلوچ، میر مقبول احمد لہڑی ، جمال مینگل، جمیل رمضان ایڈووکیٹ اور وکلاء کی بڑی تعداد موجودتھے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کٹھ پتلی بلوچستان حکومت نے چھوٹی چڑیا کے میزبان کو انٹرویو دینے پر سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

Share This Article