انسانی حقوق کے کارکن اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ساتھ ہونے والی ’متنازع‘ گفتگو کے دورانیہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست جمع کروا دی ہے۔
اپنی تحریری درخواست میں ایمان مزاری نے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ معزز چیف جسٹس کی عدالت نمبر ایک کی 11 ستمبر 2025 کی صبح نو بجے سے 11 بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کریں۔
درخواست کے مطابق ’اس دوران میرے ساتھ ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں یہ ضروری ہے کہ گفتگو کی ریکارڈنگ محفوظ کی جائے۔‘
یاد رہے کہ جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے درمیان تکرار ہو گئی تھی۔
تاہم جمعے کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ایمان مزاری ان کی بیٹیوں کی طرح ہیں لیکن ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے طوفان کھڑا کیا گیا۔
سنیچر کے روز ایمان مزاری نے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’مذکورہ تاریخ اور وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایک کاپی مجھے فراہم کی جائے، جس کے لیے میں نے اس درخواست کے ساتھ ایک یو ایس بی منسلک کی ہے۔‘
’کل سے اِس بات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔‘
جمعے کے روز وضاحت دیتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ گذشتہ روز بطور چیف جسٹس اور بڑا ہونے کے ناطے ایمان مزاری کو سمجھا رہے تھے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ’کل سے اِس بات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔‘
’ہادی صاحب (ایمان مزاری کے شوہر) کھڑے تھے تو میں نے کہا انھیں پکڑ کر لے جائیں ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے بچوں کی طرح سمجھایا لیکن وہ سمجھ نہیں رہی تھی۔ بار بار کہہ رہی تھیں کہ بنیادی حقوق، کیا اِس کورٹ کے بنیادی حقوق نہیں۔‘
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر ’توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بچی کا کیرئیر خراب ہو جائے گا۔‘