قلات و خضدار میں 5 حملوں میں پاکستانی فوج کے 11 اہلکار ہلاک کئے،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات اور خضدار میں 5 حملوں میں پاکستانی فوج کے 11 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قلات اور خضدار میں قابض پاکستانی فوج کو پانچ مختلف حملوں میں نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز سرمچاروں نے قلات کے علاقے شیخری میں قابض پاکستانی فوج کی ایک ٹرک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 4 اہلکار موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہوگئے جبکہ دشمن فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز قلات کے علاقے مورگند میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں 2 دشمن اہلکار مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ مورگند ہی میں ایک اور کارروائی کے دوران سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ایک پوسٹ پر تعینات اہلکار کو اسنائپر حملے میں ہلاک کردیا۔

مزید برآں، 5 ستمبر بروز جمعہ سرمچاروں نے مورگند کے علاقے میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا، جس میں 2 اہلکار ہلاک اور مزید دو زخمی ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے زہری، انجیرہ میں قابض پاکستانی فوج کے بم ڈسپوزل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار مارے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ ہماری مسلح جدوجہد قابض پاکستانی فوج اور اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں کے خلاف ہے۔ دشمن کے فوجی قافلے، تنصیبات اور معاون ڈھانچے سرمچاروں کے لئے جائز عسکری اہداف ہیں، اور جب تک قابض فوج بلوچ وطن سے اپنی غیرقانونی موجودگی ختم نہیں کرتی، سرمچاروں کی مزاحمتی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔

Share This Article