حماس نے قطر کے دارلحکومت دوحہ میں اسرائیلی حملے میں 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ دوحہ میں اسرائیلی حملے سے اس کی مذاکراتی ٹیم محفوظ رہی ہے تاہم 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں حماس نے کہا کہ ’دشمن نے مذاکراتی وفد میں موجود ہمارے بھائیوں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی۔‘
اس میں کہا گیا کہ یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ نتن یاہو اور ان کی حکومت امن معاہدہ نہیں چاہتے۔
حماس کے مطابق اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس نے اس کا ذمہ دار امریکی حکومت کو بھی قرار دیا ہے۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد میں مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے شامل ہیں۔ جبکہ ان میں قطر کی سکیورٹی فورسز کے رکن بدر سعد محمد الحمیدی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
حماس کے مطابق مرنے والوں میں حمام الحیہ (ابو یحییٰ) مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے،جہاد لباد (ابو بلال) الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر،عبداللہ عبدلواحد (ابو خلیل)،مؤمن حسونا (ابو عمر)،احمد المملوک (ابو مالک) اوربدر سعد محمد الحمیدی، قطر سکیورٹی فورسز کے رکن شامل ہیں۔