دو ستمبر کو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل )کے سردار عطااللہ مینگل کی برسی کی مناسبت سے جلسہ عام پر خود کش دھماکے کے ردعمل میں آل پارٹیز کی جانب سے دی گئی شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر بلوچستان بھر میں پولیس اور لیویز نے کریک ڈائون کرکے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد کو گرفتار کرلیا۔
میڈیاذرائع کے مطابق صرف کوئٹہ میں سریاب، ایئرپورٹ روڈ، بروری، بائی پاس اور شہر کے دیگر علاقوں سے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں پشتونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال، قہار خان ودان، بی این پی کے ملک نصیر شاہوانی، طاہر شاہوانی اور تحریک انصاف کے سید آغا شامل ہیں۔
سوراب کے علاقے کراڑو میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ بند کرنے پر لیویز اور پولیس نے بی این پی کے ضلعی صدر عبدالطیف سمیت تین کارکنوں کو گرفتار کیا۔
مستونگ سے بی این پی کے ضلعی صدر حاجی انور مینگل، نیشنل پارٹی کے میر سکندر ملازئی سمیت 14 کارکنان، لورالائی سے اے این پی اور پشتونخوا میپ کے 7 کارکنان، جبکہ جعفرآباد سے 8 افراد گرفتار کیے گئے جن میں نیشنل پارٹی کے عبدالرسول بلوچ اور عبدالحکیم بلوچ، بی این پی کے مراد بلوچ اور نصیرآباد کے ڈویژنل صدر آدم رند شامل ہیں۔
اسی طرح نصیرآباد سے مزید 9، دکی سے پی ٹی آئی کے ضلعی جنرل سیکریٹری مجید ناصر سمیت 16، زیارت کے علاقے سنجاوی سے 4 اور قلات میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ چمن میں بھی پشتونخوا میپ کے 15 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔