بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے ) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ضلع کیچ کے علاقے مند میں پاکستانی فوج کے 2 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مند میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنا کر جانی نقصانات سے دوچار کیا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ، قلات و مستونگ میں قابض فوج اور سہولت کاری میں ملوث ٹرانسپورٹ کمپنی کو بھی تین مختلف کارروائیوں میں نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے آج مند کے علاقے کوہ پشت گیاب میں قابض پاکستانی فوج کے دو اہلکاروں کو اس وقت مسلح حملے میں ہلاک کیا جب وہ موٹر سائیکل پر گشت کر رہے تھے۔ سرمچاروں نے قابض فوج کے دونوں اہلکاروں سپاہی جمیل احمد اور عزیز اللہ کو ہلاک کرکے ان کا اسلحہ اپنی تحویل میں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ شب نیو سریاب تھانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پولیس کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے 15 اگست کو قلات کے علاقے منگچر میں چوٹانک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 13 اگست کو مستونگ کے علاقے مَرو کنڈ میں قابض فوج کی سہولت کاری میں ملوث ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر کو نذرِ آتش کیا۔ مذکورہ ٹرانسپورٹ کمپنی قابض فوج کے لیے راشن اور دیگر رسد پہنچانے میں ملوث تھی جبکہ اسے اس سے قبل تنبیہ کیا جا چکا تھا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔