پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ جبری گمشدگیوں خلاف اور بی وائی سی رہنمائوں کی رہائی کیلئے جاری دھرنے میں آج بروز جمعہ کو لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بی وائی سی رکن نظر مری کی جبری گمشدگی سنگین اجتماعی سزاہے۔
سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بلوچ لواحقین کے اس احتجاجی کیمپ کو آج 52 دن گزر چکے ہیں۔ سخت موسمی حالات کے باوجود نہ کسی نے ان کے جمہوری مطالبات کو سننے کی کوشش کی اور نہ ہی کوئی اقدام اٹھایا۔ یہ رویہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ بلوچستان میں آج تک جمہوری طرزِ سیاست کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ یہاں سیاسی رہنماؤں کو سننے کے بجائے ہمیشہ تشدد اور جبر کے ذریعے خاموش کرایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بتانا لازمی سمجھتے ہے کہ ہم لواحقین ضرور ہیں، مگر ہمارے پاس عوام کا موقف ہے۔ ہم یہاں ان خاندانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جو بلوچستان میں ریاستی جبر کا شکار ہیں، اور وہی دراصل عوام کی اکثریت ہے۔
لواحقین نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد نظر بلوچ کی جبری گمشدگی کو اجاگر کرنا ہے۔ نظر مری بایوکیمسٹری میں ایم فل اسکالر ہیں اور کوہلو کے رہائشی ہیں۔ گزشتہ دس سال سے وہ کوئٹہ میں مقیم رہے ہیں اور ایک متحرک طلبہ رہنما کے طور پر اپنی جدوجہد کا آغاز کرنے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سرگرم کارکن کے طور پر پرامن سیاست کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر مری نے ہمیشہ پرامن سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی اور بلوچستان کے پسماندہ عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ مگر افسوس کہ وہ خود جبری گمشدگی کے شکار بنا دیے گئے۔ انہیں بارہا ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند نہ کریں۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بہترین آرگنائزر کے طور پر اس اہم مسئلے پر توجہ دلاتے رہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ 27 اگست کو شام ساڑھے سات بجے، کوئٹہ کے گولی مار چوک پر بلال کیفے سے، سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں نے درجنوں لوگوں کے سامنے نظر مری کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔ آج ان کی گمشدگی کو 8 دن گزر چکے ہیں، مگر تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ اہلِ خانہ نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی مگر ہمیشہ کی طرح پولیس نے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نظر مری کی جبری گمشدگی نہ صرف ان کی آزادی سلب کرنے کا سنگین جرم ہے بلکہ ان کے خاندان کو اذیت ناک انتظار میں مبتلا کرکے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ان سیاسی کارکنوں کو بھی ذہنی اذیت دی جا رہی ہے جو پرامن سیاسی راستہ اختیار کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے حکامِ بالا کو واضح طور پر کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو مزید جبری طور پر غائب کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ یہاں ہر فرد ایک کہانی ہے اور ہر کہانی سے مزاحمت کی روانی ہے۔ ہر جبری گمشدہ فرد کی داستان نے سینکڑوں لوگوں کو متحرک کیا ہے، اور مزیدہ جبری گمشدگیاں کرنے سے یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ اس عمل کو مجرمانہ قرار دے کر فوری طور پر بند کیا جائے اور نظر مری سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔