بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ضلع خضدار کے علاقے زہری میں ڈیتھ اسکواڈ کے رکن ندیم زہری کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تنظیمی خفیہ ونگ کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے رات 8 بجے کے قریب خضدار کے علاقہ زہری میں زہری گیٹ کے قریب ندیم زہری ولد علی محمد کو نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک سال قبل بھی ندیم زہری پر بی ایل ایف کے سرمچاروں نے حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوکر بچ گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ندیم زہری 19 فروری 2018 کو شہید نور الحق عرف بارگ اور شہید ضیاء الرحمان عرف دلجان کی شہادت میں براہ راست ملوث تھا۔ دونوں سرمچار ساتھی 19 فروری 2018 کو زہری کے علاقہ تراسانی میں ریاستی مسلح پراکسی (ڈیتھ اسکواڈ) اور پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوئے تھے۔ اس فوجی آپریشن میں ندیم زہری اور اس کے ساتھی قابض فوج کے شانہ بشانہ شریک تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ندیم زہری کی ہلاکت کو قبول کرتی ہے اور میڈیا کے ذریعے زہری سمیت مختلف علاقوں میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈز کے تمام کارندوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ قابض پاکستانی فوج کے ساتھ تعاون اور بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور شہادت میں براہ راست یا بالواسطہ شریک جرم ہونا ترک کردیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار بلوچ قومی تنظیم کی حیثیت سے آپ سب کو مطلع کرتے ہیں کہ اگر کوئی بھی شخص غیر دانستہ، لاشعوری طور پر یا کسی مجبوری کے تحت ان ریاستی پراکسیز کا حصہ بنا ہے تو وہ اس قوم دشمن عمل سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ دشمن کے ساتھ ترک تعلق کرنے والوں کیلئے معافی کی گنجائش موجود ہے اور انہیں صفائی کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ بصورت دیگر انہیں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔