پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کی رہائی کیلئے بلوچ خاندانوں کا دھرنا آج 48 ویں روز میں داخل ہوگیاہے جو شدید بارش میں بھی جاری رہی۔
مظاہرین میں بزرگ خواتین، بچے اور اہل خانہ شامل ہیں جو اسلام آباد کی سڑک کنارے شدید بارش اور ناقص سہولیات کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے حکومت اور انتظامیہ نے سڑکوں کی بندش، ہراسانی اور پابندیوں کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ حتیٰ کہ نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جو ہمیشہ انسانی حقوق کے مظلومین اور متاثرین کی آواز بلند کرنے کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ حکومتی بے حسی اور مسلسل نظر انداز کیے جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پرا من اختلاف اور انسانی حقوق کے مطالبات کو بھی منظم طریقے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔