وائس فار بلوچ مسنگ کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4015 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری طور پر لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے قائم وائس فار بلوچ مسنگ کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4015 دن مکمل ہوگئے۔آج اظہار یکجہتی کرنے والوں میں حوران بلوچ، حسبیہ، ثناء بلوچ اور منظور شامل تھے

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیربلوچ نے وفود سےمخاطب ہوکرکہاکہ افسوس کا مقام ہےکہ اس غلام سوئے ہوئے سماج کے ساتھ اقوام متحده بھی سرمایہ داروں کی پالیسیوں پر گامزن ہےسول سو سائٹی اور یہاں آباد تمام اقوام سے بس یہی سوال ہے کہ کیا انسان کو اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں کیا ایک قوم کی تشحض ثقافت شناخت کی کوئی اہمیت نہیں اگر ہے تو بلوچ سندهی پشتون اقوام کی اس بےدردی سے قتل عام کو کونساانسانی قانون ہے جو جسٹی فائی کرتا ہے،دنیا کے یہی ملک دیگر خطوں میں انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی کے حوالے ہراول دستے کا کردارادا کرتی ہے مگر افسوس کہ آزادی صحافت کے دعویدار وں کی چہرابھی بلوچستان میں عیاں ہوچکا ہے،سامراج کی گود میں بیٹے صحافی کی قلم سچاہی کے بجاے سامراج کی زبان ہی بول سکتا ہے،ہم گیاره سالوں سے احتجاج کرتے آرہے ہیں مگر کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی اس لیے کہ اسٹبلشمنٹ کی ناراضگی صحافیوں کو مہنگی پڑتی ہے۔

آج چند ایک صحافیوں کے سواء سب کے سب بلوچ قوم پر جاری ریاستی بربریت کو محض تماشہ بین کی طرح دیکھ رہے ہیں ۔ان کی قلم یا ٹی وی چینلز پر کچھ نشر ہونا تودور کی بات ہے بلوچوں کی ریاست کے ہاتھوں شہادت ، ٹارگٹ گلنگ کی خبر تک کی میڈیا میں ٹکر تک نہیں بنتی ، بلوچ قوم نے پرامن جہد جہد جاری رکھا ہوا ہے جسکی حاصل ضرور اسے ملے گی مگر سوچیں جس سماج میں آپ ره رہے اسکامستقبل کیا ہوگا آج یہاں بسنے والے اقوام کی خاموشی کل آپ کے نسلوں کی سیاه مستقبل کا سب بن سکتی ہے ضرور اس پر سوچیں کہ یہ جار حیت صرف بلوچ سندهی اور پشتون قوم پر نہیں بلکہ یہ آپ کی سماج میں مزہبی و سماجی تفر یق کی صورت میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے یہاں مز ہب کے نام پر طبقاتی تفر یق پر اقوام.کی استحصال شروع ہوچکا ہیکہ اسکے بہت خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

Share This Article
Leave a Comment