بلوچستان کے ضلع خضدار میں زاوہ اور زہری کے مقامات پر حالات بدستور کشیدہ ہیں ، کوئٹہ ٹو کراچی قومی شاہراہ گزشتہ 33 گھنٹوں سے بند ہونے کے باعث خضدارشہر اور اطراف کے علاقوں میں صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔
حب چوکی سے خضدار آنے والی ویگن کے مسافروں کے اغواء کے بعد احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے۔
طویل بندش کے باعث سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر راستے میں پھنس گئے ہیں۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت مسافروں کو خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ کئی مسافروں کے پاس رقم بھی ختم ہو چکی ہے۔
تین روز قبل حب چوکی سے خضدار آنے والی ویگن کو پیر عمر کے مقام پر فورسز نے روکا۔ خواتین اور بچوں کو گاڑی سے زبردستی اتار دیا گیا جبکہ مرد مسافروں کو گاڑی سمیت نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ اس واقعے کے خلاف اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندانوں نے احتجاج شروع کر دیا جو تاحال جاری ہے۔
مظاہرین نے شاہراہ کو بند کر کے دھرنا دیا ہوا ہے۔ بابا فتح زہری نے فون پر صحافیوں کو بتایا کہ خضدار کے اسسٹنٹ کمشنر اور لیویز فورس نے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق اہلکاروں نے فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے دو مسافر زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ لیویز اہلکاروں نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور نوجوانوں کو زدوکوب کیا۔
بابا فتح زہری نے زہری کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں دھرنے میں شرکت کریں تاکہ خضدار انتظامیہ کی ’’زیادتیوں‘‘ کو ناکام بنایا جا سکے۔
علاقے کے عوام اور متاثرہ مسافروں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر صورتحال کو قابو میں لایا جائے، شاہراہ کھلوائی جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید نہ بڑھے۔