اسلام آباد : لواحقین بلوچ اسیران کا دھرنا 41ویں روز میں داخل ، مزید فیملی شریک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی اور دیگر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچ لواحقین کااحتجاجی دھرنا آج مسلسل 41ویں روز میں داخل ہوگیا۔

دھرنے میں مزید فیملی نے شریک ہوئے ہیں۔

گذشتہ 41 دنوں سے جاری دھرنے میں مزید متاثرہ فیملی شریک ہورہے ہیں۔

جبری گمشدگی کے شکار صغیر احمد اور اسراربلوچ کی فیملی آج دھرنے میں شریک ہوئی۔

دھرنے میں شریک لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ طویل انتظار اور مشکلات کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بی وائی سی رہنماؤں کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے اور جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔

اس موقع پر مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر #ReleaseBYCLeaders اور #EndEnforcedDisappearances کے نعرے درج تھے۔

دھرنے میں شریک خاندانوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

دھرنے میں شریک بی وائی سی کے رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ یہ دھرنا اُن خاندانوں کی اُس طویل اور صبر آزما جدوجہد کا تسلسل ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے حصول کے لیے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور معصوم بچے اپنے گمشدہ عزیزوں کی تصاویر اٹھائے روزانہ حکام اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو بازیاب کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ لواحقین نہ کسی دباؤ کو قبول کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی تھکنے والے ہیں، کیونکہ ان کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کسی ایک فرد کی غیرموجودگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کے لیے مستقل اذیت، خوف اور اجتماعی سزا میں بدل جاتی ہے۔ یہی دکھ اور کرب ان خاندانوں کو سڑکوں پر لے آیا ہے تاکہ وہ اپنے زخموں کو طاقت میں بدل کر دنیا کے سامنے اپنی آواز بلند کر سکیں۔

Share This Article