بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر ساتھیوں کو آج انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
آج دوران سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی)کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی پولیس ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کردی ۔
اس سے قبل بھی گذشتہ کئی سماعتوں کے دوران انہیںمسلسل 10، 15اور20 دنوں کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جاتا رہا ہے۔
پیشی کے بعد کمرہ عدالت میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ "پاکستانی حکام نے بی وائی سی قیادت کو اس لیے قید رکھا ہے تاکہ عوام اس سے خوفزدہ ہو لیکن ہم مثال بنائیں گے کہ کوئی بھی تحریک جیل، قید و بند سے ختم نہیں ہوتی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ "اس تحریک کی طاقت ہمیشہ عوام رہی ہے۔ ہم نے یہ تحریک سڑکوں سے شروع کی تھی اور آج عدالتوں تک لے کر آئے ہیں۔”
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مزید کہا کہ "ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان عدالتوں میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ، پشتون، سندھی مسنگ پرسنز کے کیسز چل رہے ہیں، یہ عدالت احکامات کے باوجود ان کو بازیاب نہیں کرسکیں مگر یہی عدالتیں بی وائی سی کے سیاسی کارکنان پر روڈ بند کرنے پر دہشت گردی کے کیسز چلا رہے ہیں۔”
واضع رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن بیبگر بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ، سمیت گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور عمران بلوچ کی غیر قانونی اور غیر آئینی گرفتاری کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔