جبری گمشدگیوں پر خاموشی جرم ہے، ہم اس جرم میں شریک نہیں ہو سکتے، لاپتہ صغیر بلوچ کی ہمشیرہ کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار صغیراحمد کے ہمشیرہ نے کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی صغیراحمد اور کزن اقرار کو رواں سال 11جون کو اورماڑہ چیک پوسٹ سےریاستی اداروں نے جبری لاپتہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی اور کزن پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیاجائے، بےقصور ہے تو رہا کیاجائے۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئر میں نصر اللہ بلوچ بھی موجود تھے ۔

لاپتہ صغیر احمد بلوچ کی ہمشیرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج دوسری بار اس پریس کلب میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں۔ میرا مقصد واضح اور سیدھا ہے ۔اپنے بھائی صغیر احمد اور کزن اقرار بلوچ کی بحفاظت بازیابی چاہتی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 جون 2025 کی شب، میرے بھائی اور کزن کو اورماڑہ چیک پوسٹ سے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ آج ان کی گمشدگی کو دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکے ہیں۔ اس طویل عرصے میں نہ کسی تھانے میں رپورٹ درج ہوئی، نہ کسی عدالت میں پیشی ہوئی، اور نہ ہی کسی ریاستی ادارے نے ہمیں کوئی اطلاع دی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ میرا بھائی 20 نومبر 2017 کو بھی کراچی یونیورسٹی میں امتحان دینے کے بعد لاپتہ کیا گیا تھا اور تقریباً ایک سال تک نامعلوم حراستی مراکز میں غیر انسانی سلوک اور تشدد کا شکار رہا۔ یہ زخم آج تک ہمارے خاندان کے دل و دماغ میں تازہ ہیں۔

پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صغیر احمد ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ کراچی یونیورسٹی اور سرگودھا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے علاقے آواران واپس گئے تاکہ اپنے لوگوں کی خدمت کریں۔ لیکن روزگار نہ ملنے پر وہ تربت گئے اور اپنے کزن اقرار بلوچ کے ساتھ محنت مزدوری شروع کی۔ ان کا واحد "جرم” محنت سے روزی کمانا اور بلوچ ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقرار بلوچ گردے کے مریض ہیں اور فوری علاج کے محتاج ہیں۔ کیا ایک جمہوری ریاست میں بیمار اور بے گناہ افراد کے ساتھ یہ سلوک قابل قبول ہے؟ آئینِ پاکستان ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ بھی اسی آئین کا حصہ ہیں؟ اگر ہیں، تو پھر ہمارے نوجوانوں کو عدالت میں پیش کیے بغیر کیوں غائب کیا جاتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی غیر قانونی عمل کی حمایت نہیں کرتے۔ اگر صغیر احمد یا اقرار بلوچ پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، وکیل فراہم کیا جائے اور شفاف قانونی عمل کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ یہی آئین کا تقاضا ہے، یہی انسانی حقوق کا اصول ہے، اور یہی اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے جبری گمشدگی کا مطالبہ ہے۔

ہمشیرہ نے مزید کہا کہ جب عدالتیں خاموش ہو جائیں، ایوان بے حس ہو جائیں اور میڈیا دوسری ترجیحات میں مصروف ہو جائے تو ایک مظلوم بہن کہاں جائے؟ جب ریاست خود اپنے شہریوں کے لیے خطرہ بن جائے تو ہم کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ خاموشی جرم ہے اور ہم اس جرم میں شریک نہیں ہو سکتے۔

لاپتہ صغیر بلوچ کی بہن کا کہنا تھا کہ میں سپریم کورٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے پُرزور اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے بھائی اور کزن کی فوری اور بحفاظت بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ بلوچ نوجوان گمشدہ ہونے کے لیے پیدا نہیں ہوئے — ہم جینا چاہتے ہیں، تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، باعزت روزی کمانا چاہتے ہیں، اور پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

Share This Article