بلوچستان کے علاقے خضدار میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں کراچی سے جبری لاپتہ ہونے والے میریوسف قلندرانی کی بازیابی کے لئے احتجاجی مظاہرہ وریلی نکالی گئی۔
جمعیت علماءاسلام خضدار کے زیراہتمام یوسی چیئرمین توتک سردار زادہ یوسف علی خان قلندرانی کی ماورائے عدالت گرفتاری و گمشدگی کے خلاف ایک پرامن اور منظم احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
یہ ریلی مرکزی جامع مسجد خضدار سے شروع ہوکر مختلف شاہراہوں سےہوتاہوا آزادی چوک خضدارپر ایک بڑے جلسے کی شکل اختیارکی گئی۔
ریلی میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سردار زادہ یوسف علی خان قلندرانی کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔
احتجاجی جلسے سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی، بلوچستان اور مرکزی رہنمائوں نے خطاب کیا۔ جن میں حضرت مولانا مرکزی سرپرست وضلعی امیرخضدار قمر الدین،بلوچستان سرپرست و ضلعی نائب امیر مولانا فیض محمد سمانی، ضلعی رہنمائوں مولانا مفتی عبد القادر شاہوانی، مولانا بشیر احمدعثمانی، تحصیل امیرخضدار قاری نذیر احمد شاکر اور مولانا عبد الکریم متوکل ودیگر شامل تھے۔
احتجاجی ریلی سے جے یوآئی کے مرکزی ،بلوچستان ضلعی وتحصیل رہنمائوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک پرامن،محب وطن اورملکی آئین و قانون کی پاسدار جماعت ہے۔ اورکسی بھی ماورائے عدالت غیرآئینی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
رہنمائوں نے انتظامیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سردار زادہ یوسف علی خان قلندرانی کو فورا اور محفوظ طریقے سے بازیاب کرایا جائے۔
رہنمائوں نے حکومت کومزید 3 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔
انہوں نے ریلی کا اختتام پرمولانا قمر الدین کی پراثر اور رقت آمیز دعا پر کردیاجس میں مولانا قمرالدین نے علاقے میں امن،انصاف سردار یوسف علی قلندرانی کے بازیابی اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے دعا کی۔