بلوچستان میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف حکومت کو نوٹس جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان ہائیکورٹ نے موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف ایک آئینی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

یہ آئینی درخواست چیئرمین کنزیومر سوسائٹی خیرمحمد شاہین نے دائر کی ہے۔

درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی نے کی۔

درخواست گزار نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال آج کل زندگی کے ہر شعبے کی ضرورت ہے لیکن کسی مناسب جواز کے بغیر بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا جس سے طلبا کی تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ غیر معینہ مدت کے لیے سروس کی بندش بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ہائیکورٹ کے بینچ نے کہا کہ درخواست گزار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی معطل کیا گیا ہے جس سے عام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے پہلے جواب دعویٰ دائر کریں۔ عدالت نے کہا کہ ناکامی کی صورت میں وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوں۔ درخواست کی آئندہ سماعت 15اگست کو ہوگی۔

Share This Article