پنجگورمیں سیاسی کارکنان کے گھروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سوموار کے شب پنجگور کے علاقے خدابادان میں نامعلوم مسلح افراد نے بلوچ سیاسی کارکنان کے گھروں پر شدید فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تفصیلات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ شب تقریباً تین بجے کے وقت بلوچ نیشنل موومنٹ کے جرمنی زون کے صدر حمل بلوچ اور بی ایس او آزاد کے سابق رکن داود بلوچ ولد حاجی داد رحمان کے گھروں پر اندھا دھند فائرنگ میں سینکڑوں گولیاں برسائیں۔

فائرنگ کے نتیجے میں املاک کا نقصان ہوا لیکن ابتک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد نامعلوم مسلح افراد بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس واقعے کے حوالے سے بی این ایم جرمنی زون کے صدر حمل بلوچ نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئیٹر پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ” 18 جولائی کو پیش آنے والے ہرنائی واقعے کے خلاف جرمنی کے شہر برلن میں مظاہرہ کرنے کی پاداش میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ نے میرے اور شہید داود بلوچ کے گھر پر حملہ کردیا، ہمارے گھروں پر سینکڑوں گولیاں برسائی گئیں، یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ میرے سیاسی سرگرمیوں کی سزا میرے گھر والوں کو دی گئی ہے۔”

حمل بلوچ نے اس حملے کا الزام مبینہ طور پر پاکستان فوج کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ پر عائد کی اور مزید کہا کہ “ماضی میں بھی مجھ پر جعلی مقدمات دائر کیئے گئے، میرے بھائی کو جبری طور پر مہینوں لاپتہ رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور متعدد بار میرے خاندان کو ہراساں کرنے کی غرض سے میرے گھر پر چھاپے مارے گئے۔ یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ ایسے بہیمانہ حرکات سے میں اپنے لوگوں کے حقوق و آزادی کی مانگ سے باز نہیں آو¿ں گا۔”

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں و مہذب اقوام عالم سے اپیل کی کہ ” وہ پاکستان کے اجتماعی سزا کی پالیسی اور ڈیتھ اسکواڈوں کی تشکیل پر جواب طلبی کریں۔”

دریں اثنا بی این ایم جرمنی زون کے ترجمان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “ہرنائی واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں بلوچ سیاسی کارکنان کے گھروں پر یہ حملہ کیا گیا ہے۔”

ابتک کی اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تفتیش نہیں ہوئی ہے اور نا ہی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment