بلوچستان ہائی کورٹ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پاکستان کی مرکزی اوربلوچستان حکومتوں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، جبکہ کیس کی اگلی پیشی دو ہفتے بعد مقرر کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں میں حاجی لشکری رئیسانی، ہمایوں عزیز کرد، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی، جمعیت علما اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں شامل تھیں۔
عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ ایکٹ بلوچستان کے عوامی وسائل پر قبضے کا راستہ ہموار کرتا ہے، جس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیاں قیمتی زمینوں پر تسلط قائم کرسکتی ہیں۔
لشکری رئیسانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایکٹ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے اور ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کیا تاکہ تمام جماعتیں متحد ہو کر اس قانون کے خلاف لائحہ عمل طے کریں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بی این پی ہی واحد جماعت ہے جس نے اس بل کو ووٹ نہیں دیا اور سب سے پہلے سردار اختر مینگل نے اسے مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بی این پی کسی کو بلوچستان کے وسائل لوٹنے کی اجازت نہیں دے گی اور ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند رکھے گی۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔