حماس کا فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار ڈالنے سے انکار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

حماس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

فلسطینی مسلح تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے اس بیان کا ردِ عمل ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس نے ہتھیار ڈالنے پر ’رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

اسرائیل کی جانب سے تنازع کو ختم کرنے کی کئی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ حماس غیر مسلح ہو جائے۔

اسرئیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے بالواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

گذشتہ چند دنوں میں عرب ممالک نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کا کنٹرول چھوڑ دے اور غیر مسلح ہو جائے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ستمبر تک کچھ شرائط پوری نہیں کیں تو وہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ’مزاحمت اور ہتھیار‘ رکھنے کے اپنے حق کو اس وقت تک ترک نہیں کرے گی جب تک کہ ’ایک آزاد اور مکمل خودمختار فلسطینی ریاست‘ قائم نہیں کر دی جاتی جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔

Share This Article