بلوچستان کے ضلع کیچ اور واشک سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ بلیدہ سے ایک جبری لاپتہ شخص کی لاش بر آمد ہوئی ہے ۔
ضلع واشک کے علاقے ناگ میں فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
یہ واقعہ 31 جولائی 2025 کی رات پیش آیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، شب دو بجے کے قریب فورسز نے ٹکری میر حاجی حاصل خان ساسولی کے گھر پر دھاوا بولا، جہاں سے ان کے نوجوان بیٹے عبد الکریم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق چھاپے کے دوران نہ صرف انہیں زد و کوب کیا گیا بلکہ گھریلو سامان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
اسی طرح ضلع کیچ میں فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیاہے۔
لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت جعفر ولد اعجاز، ساکن ہوت آباد کے طور پر ہوئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، انہیں 30 جولائی کو کیچ کے علاقے خیر آباد سے فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
علاہ ازیں ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سلوئی کور ڈیم سے ایک لاپتہ شخص دل جان ولد خدابخش کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
لیویز ذرائع کے مطابق دل جان کو گزشتہ رات قتل کیا گیا اور اس کی لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔
دل جان کا تعلق بلیدہ کے علاقے کوچگ سے تھا اور وہ 22 جولائی کو میناز میں موٹر سائیکل ٹھیک کرانے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ چار سال قبل بھی جبری لاپتہ ہو چکا تھا، تاہم اس وقت چار ماہ بعد بازیاب ہوا تھا۔
لیویز نے لاش کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔