پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے نوشکی اور سندھ کے مرکزی شہر کراچی سے 2 بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
نوشکی سے آج بروز ہفتہ کو فورسز نے ایک نوجوان کو لاپتہ کردیا ۔
لاپتہ کئے جانے والے نوجوان کی شناخت حفیظ اللہ ولد پیر محمد سکنہ قاضی آباد نوشکی کے نام سے ہوگئی ہے جسے آج گھر سے حراست میں لے کر جبری طور پر گمشدہ کر لیا گیا ۔
لواحقین نے انکی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ۔
دوسری جانب کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والا طالبعلم مسلم داد بلوچ کل شام 7 بجے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہو گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلم داد بلوچ کو یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے سے اٹھایا گیا، جس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
بلوچستان اور دیگر شہروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور طالبعلم تنظیمیں گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
ریاستی اداروں کی جانب سے ان گمشدگیوں پر خاموشی اختیار کی گئی ہے، جب کہ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔