مند، تربت ، بلیدہ وقلات سے 6 افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقوں مند، تربت اور بلیدہ سے 5 جبکہ قلات سے ایک شخص کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ضلع کیچ کے علاقے مند بلوچ آباد کے تین نوجوان مزدور کنٹانی سے چھٹی پر اپنے گھر جاتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

لاپتہ نوجوانوں کی شناخت سمیر شفیع (عمر 19 سال)، سرور خداداد (عمر 20 سال) اور یونس عصاء (عمر 25 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔

فیملی ذرائع کے مطابق، تینوں نوجوان کنٹانی میں محنت مزدوری کرتے تھے اور حالیہ دنوں میں چھٹی پر اپنے گاؤں واپس آ رہے تھے، تاہم راستے سے اچانک لاپتہ ہو گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

اہلخانہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ نوجوانوں کی فوری تلاش اور بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح ضلع کیچ کے بلیدہ کے صاحب خان بازار سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار قمبر بلوچ ولدنورجان جس کی عمر 16 سال بتائی جارہی ہے کو 23 جولائی کو آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے تربت کے علاقے جوسک سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے گورکوپ سی کلگ سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمران خان ولد تاج محمد جس کی عمر 26 سال بتائی جارہی ہے کو 27 جون کو ایم آئی اور ایف سی کے اہلکاروں نے تربت کے علاقے آبسر سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔

علاوہ ازیں قلا ت کے رہائشی بسم اللہ ہوٹل قلات والے پرویز احمد عرف ٹکری ولد نور محمد آج صبح سے لاپتہ ہے ۔

انکے بھائی تنویر احمد کے مطابق وہ معمول کے مطابق آج صبح سویرے گھر سے بازار کی طرف ہوٹل کھولنے نکلا تھا لیکن وہ ہوٹل نہیں پہنچا ،اس کے پاس موبائل بھی نہیں ہے، جبکہ اسکا بھی اہل خانہ سے رابطہ نہیں ہوا ہے ۔

اس کیلئے انکے خاندان والے پریشان ہیں لہذا جس کسی کو بھی پرویز عرف (ٹکری) کے حوالے سے معلومات ملے وہ برائے کرم اہلخانہ کو اطلاع کریں ۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے وارداتوں میں مکمل طور پاکستانی فورسز وخفیہ ادارے اور انکے مقامی مسلح جتھے ملوث پائے گئے ہیں ۔

Share This Article