بلوچستان ضلع قلات میں منگل کے روز پاکستانی فورسز کے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم9 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں اور حملہ آور اسلحہ ضبط کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
واقعہ ضلع قلات کے علاقے کوہک میں اس وقت پیش آیا جب فوجی قافلہ گزر رہا تھا۔
مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ گھات لگا کر کیا گیا اور حملہ آوروں نے قافلے کو مختلف سمتوں سے نشانہ بنایا، جس میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
تاحال حکام کی جانب سے واقعے کی تصدیق یا کسی جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے دوران کئی اہلکار موقع پر ہی ہلاک یا شدید زخمی ہوئے، جبکہ حملہ آور اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کرنے میں بھی کامیاب رہے۔
حملے کے بعد جب کمک کے لیے فورسز کا دوسرا قافلہ جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوا، تو اس پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
تاہم حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے زیارت دستگیر کراس کے مقام پر ایک بوزر گاڑی کو نذرآتش کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب آج ہی اس سے قبل ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین میں بھی اسی نوعیت کی ایک کارروائی میں ایک اور بوزر گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اب تک کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں تعمیراتی مشینری، تنصیبات اور گاڑیاں نشانہ بنائی گئی ہیں۔